سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ:"مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ؟"، فَقَالَ ابْنَاهُ: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ، فَقَالَ: "ارْكَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک بوڑھے صحابی کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان پیدل چلتا پایا تو پوچھا کہ ”ان بزرگ کو کیا ہوا؟“ (جوتمہارا سہارا لے کر چلتے ہیں) اس کے بیٹوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! انہوں نے (حج کے لئے) پیدل جانے کی نذر مانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے بزرگ! سوار ہوجاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ غنی ہے تم سے اور تمہاری نذر سے۔“ (یعنی اللہ تعالیٰ کو اس کی حاجت نہیں۔ بخاری شریف میں ہے: ”الله تعالیٰ اس سے بے پرواہ (غنی) ہے کہ یہ شخص اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔“) [سنن دارمي/من النذور و الايمان/حدیث: 2373]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2381] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6701] ، [مسلم 1643] ، [أبوداؤد 3301] ، [ابن ماجه 2135] ، [أبويعلی 6354]
وضاحت
(تشریح حدیث 2372)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ انسان جس چیز کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کی نذر مانے تو اسے پورا کرنا ضروری نہیں، اس حدیث میں کفارے کا ذکر نہیں ہے لیکن اوپر دوسری احادیث میں صحیح سند سے کفارے کا ذکر آیا ہے، اس لئے کفارہ یمین دینا واجب ہے، مسلم اور ترمذی میں ہے کہ نذر کا کفار قسم کا کفارہ ہے۔
الحكم: إسناده صحيح