بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2327 — لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو آزاد ہونے کے بعد اس کو اختیار ہو گا
کتب سنن دارمی طلاق کے مسائل لونڈی جو غلام کے نکاح میں ہو آزاد ہونے کے بعد اس کو اختیار ہو گا حدیث 2327
حدیث نمبر: 2327 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيل بْنُ خَلِيلٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ طَعَامًا لَيْسَ فِيهِ لَحْمٌ، فَقَالَ: "أَلَمْ أَرَ لَكُمْ قِدْرًا مَنْصُوبَةً؟"قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَأَهْدَتْ لَنَا، قَالَ:"هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا مِنْهَا هَدِيَّةٌ"، وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ، فَلَمَّا عُتِقَتْ، خُيِّرَتْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے کھانا پیش کیا جس میں گوشت نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری گوشت کی ہانڈی چڑھی ہوئی نہیں دیکھ رہا ہوں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے، اور بریرہ نے ہمیں ہدیہ کر دیا، اور آپ تو صدقہ کھاتے نہیں، فرمایا: وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہے، اور ان کا (بریرہ کا) شوہر تھا جب وہ آزاد کر دی گئیں تو انہیں شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطلاق/حدیث: 2327]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو طرف من الحديث السابق، [مكتبه الشامله نمبر: 2336] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5279] ، [مسلم 1505] ، [نسائي 3448، وغيرهم كما تقدم]
وضاحت
(تشریح حدیث 2326)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور انہیں اختیار دیا گیا کہ مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں، اور انہوں نے جدائی کو ترجیح دی جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح وهو طرف من الحديث السابق
← پچھلی حدیث (2326) باب پر واپس اگلی حدیث (2328) →