بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2302 — طلاق کے بعد رجوع کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی طلاق کے مسائل طلاق کے بعد رجوع کرنے کا بیان حدیث 2302
حدیث نمبر: 2302 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هُشَيْمٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا". قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: كَانَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ أَنْكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَقَالَ: لَيْسَ عِنْدَنَا هَذَا الْحَدِيثُ بِالْبَصْرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر ان سے رجوع کر لیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: ابن المدینی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو منکر کہا ہے، اور فرمایا کہ بصرہ میں ہمارے یہاں حمید سے اس کو کسی نے روایت نہیں کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطلاق/حدیث: 2302]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2311] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور تخریج ذکر کی جا چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [أبويعلی 3815] ، [الحاكم 197/2، وقال على شرط الشيخين و لم يخرجاه]
وضاحت
(تشریح حدیث 2301)
ابن المدینی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ اہلِ بصرہ میں سے کسی نے حمید سے اس کو روایت نہیں کیا کوئی علت نہیں، کیونکہ ضروری نہیں کہ اہلِ بصرہ جب روایت کریں تب ہی وہ روایت صحیح ہوگی۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2301) باب پر واپس اگلی حدیث (2303) →