بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2297 — عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا بیان
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا بیان حدیث 2297
حدیث نمبر: 2297 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ، فَدَعُوهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک رکھے اور جب تم میں سے کوئی مر جائے تو اس کو چھوڑ دو۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2297]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2306] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3895] ، [ابن حبان 4177] ، [موارد الظمآن 1312]
وضاحت
(تشریح حدیث 2296)
یعنی اس کو برے الفاظ سے یاد نہ کرو نہ اس کی برائی کرو، ترمذی شریف میں یہ اضافہ ہے: اور میں اپنے اہل کے ساتھ تم میں سب سے زیادہ اچھا سلوک کرنے والا ہوں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا سلوک کرنا خود اس انسان کے اچھا ہونے کی علامت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ متقی و پرہیزگار اور کون ہوگا جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے اچھے تھے۔
حقیقت اور امر واقعہ یہ ہے کہ جب گھر میں حسنِ معاشرت کا یہ ماحول ہوگا تو وہ گھرانہ دنیاوی سعادتوں، نعمتوں اور برکتوں سے محظوظ ہوگا۔
اس حدیث میں گذرے ہوئے لوگوں کی برائی کرنے سے بھی روکا گیا ہے۔
الحكم: الحديث صحيح
← پچھلی حدیث (2296) باب پر واپس اگلی حدیث (2298) →