بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2276 — جو آدمی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لے اس کا بیان
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل جو آدمی اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لے اس کا بیان حدیث 2276
حدیث نمبر: 2276 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، زَيْدٍ ، عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: "بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن براء نے روایت کیا اپنے والد سے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے چچا سے ملاقات کی جن کے ساتھ جھنڈی تھی، میں نے عرض کیا: آپ کہاں جاتے ہیں؟ فرمایا: مجھے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس کا سر قلم کر دوں اور اس کا مال چھین لوں۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2276]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن وهو على شرط مسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 2285] »
اس روایت کی سند حسن علی شرط مسلم ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4457] ، [ترمذي 1362] ، [نسائي 3332] ، [أبويعلی 1666] ، [ابن حبان 4112] ، [موارد الظمآن 1516]
وضاحت
(تشریح حدیث 2275)
ایسا آدمی جو سوتیلی ماں سے شادی کرے بہت بڑا مجرم ہے، اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا سارا مال و دولت ضبط کر لی جائے اور اس کا سر قلم کر دیا جائے تاکہ آئندہ کسی کو اس فعلِ قبیح کی جرأت نہ ہو، اور حقیقی ماں سے شادی کرنا اور بھی زیادہ گھناؤنا فعل اور بھیانک حرکت ہے۔
الحكم: إسناده حسن وهو على شرط مسلم
← پچھلی حدیث (2275) باب پر واپس اگلی حدیث (2277) →