بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2269 — لعان کا بیان
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل لعان کا بیان حدیث 2269
حدیث نمبر: 2269 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ، مَالِكٌ ، نَافِعًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: "فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی میں تفریق کرا دی اور بچہ اس کی ماں کو دے دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2269]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو عند مالك في الطلاق، [مكتبه الشامله نمبر: 2278] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5315] ، [مسلم 1493] ، [أبوداؤد 2259] ، [ترمذي 1203] ، [نسائي 3477] ، [ابن ماجه 2069] ، [أبويعلی 5772] ، [ابن حبان 4288]
وضاحت
(تشریح حدیث 2268)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی بیوی کو زنا کی تہمت لگائے تو ان کے درمیان لعان کے بعد تفریق ہو جائے گی، اور اگر بچہ پیدا ہوا تو وہ ماں کے حوالے کر دیا جائے گا، باپ کی طرف منسوب نہ ہوگا، وہ اپنی ماں کا وارث ہوگا اپنے باپ کا نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح وهو عند مالك في الطلاق
← پچھلی حدیث (2268) باب پر واپس اگلی حدیث (2270) →