بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2243 — عورتوں کے درمیان انصاف و برابری کا بیان
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل عورتوں کے درمیان انصاف و برابری کا بیان حدیث 2243
حدیث نمبر: 2243 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْوَلِيدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ مَائِلٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ جھکے وہ قیامت کے دن ایسے آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ مائل (جھکا) ہو گا (جیسے فالج کی وجہ سے جھک جاتا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2243]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2252] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3133] ، [ترمذي 1141] ، [نسائي 3952] ، [ابن ماجه 1969] ، [ابن حبان 4207] ، [الموارد الظمآن 1307]
وضاحت
(تشریح حدیث 2242)
اس حدیث میں بیویوں کے درمیان نا انصافی کرنے والے کے لئے بڑی وعید ہے، اور اس میں عورت کو شقائق الرجال ہونے کی بڑی عمدہ مثال دی ہے۔
قیامت کے دن اس کی ایک شق گری ہوئی ہوگی، اللہ تعالیٰ اگر کئی بیویوں کی توفیق دے تو ان کے درمیان انصاف و عدل بہت ضروری ہے، عموماً دیکھا جاتا ہے کہ کوئی شخص دوسری شادی کرتا ہے تو پہلی بیوی سے منہ موڑ لیتا ہے، یہ سراسرظلم ہے۔
آگے عورت کے حقوق پر اور کئی احادیث آ رہی ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2242) باب پر واپس اگلی حدیث (2244) →