بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2238 — وہ چیز جو مہر میں دی جا سکتی ہے اس کا بیان
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل وہ چیز جو مہر میں دی جا سکتی ہے اس کا بیان حدیث 2238
حدیث نمبر: 2238 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَالِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ"، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا، فَقَالَ:"أَعْطِهَا ثَوْبًا"، فَقَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ:"أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، قَالَ: فَاعْتَلَّ لَهُ، فَقَالَ:"مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟"، قَالَ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ:"فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اس نے اپنے نفس کو اللہ اور رسول کے لئے ہبہ کر دیا (یہ کنایہ تھا شادی کے لئے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اب عورتوں کی حاجت نہیں، ایک صحابی نے عرض کیا: (آپ کو حاجت نہیں تو) اس سے میری شادی کر دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو مہر میں کپڑ ا دیدو، عرض کیا: میرے پاس اور کپڑے نہیں، فرمایا: کچھ تو دو چاہے وہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ راوی نے کہا: اس سے بھی انہوں نے معذوری ظاہر کی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن پاک یاد ہے؟ عرض کیا: فلاں فلاں سورت یاد ہے، فرمایا: جاؤ، میں نے اس کو تمہاری زوجیت میں دیا، اس قرآن کے بدلے جو تمہیں یاد ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2238]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2247] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2310، 5087] ، [مسلم 1425] ، [أبويعلی 7521] ، [ابن حبان 4093] ، [الحميدي 957]
وضاحت
(تشریح حدیث 2237)
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑا، لوہے کی انگوٹھی اور قرآن کی تعلیم و حفظ مہر کے طور پر دی جا سکتی ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں دریافت فرماتے، اور صرف قرآن پڑھانے کو حقِ مہر قائم نہ کرتے، اور اسی سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ ہر نفع بخش چیز کا مہر مقرر کرنا درست ہے، اور معمولی سے معمولی چیز بھی مہر بن سکتی ہے جیسے کپڑا اور لوہے کی انگوٹھی جس کی معمولی قیمت ہوتی ہے۔
اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوئی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مہر کا قیمت میں ہونا یا قیمت والی چیز ہی مہر ہو سکتی ہے، اس حدیث سے عورت کا کسی سے اپنی شادی کے لئے کہنا اور اپنے آپ کو شادی کے لئے پیش کرنا بھی ثابت ہوا۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2237) باب پر واپس اگلی حدیث (2239) →