يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، حَدَّثَاهُ: أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ بِنْتًا لَهُ فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَرَدَّ عَنْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا"، فَنَكَحَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَذَكَرَ يَحْيَى: أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید دونوں انصاری بھائیوں نے بیان کیا کہ انصار کے ایک شخص نے جن کو خذام کہا جاتا تھا اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا جس کو اس نے پسند نہ کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے باپ کا (کرایا ہوا) نکاح فسخ کرا دیا اور اس عورت نے ابولبابہ بن عبدالمنذر سے نکاح کر لیا۔ یحییٰ بن سعید نے کہا: ان کو خبر لگی ہے کہ یہ عورت ثیبہ تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2228]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2237] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5138] ، [أبوداؤد 2101] ، [نسائي 3273] ، [ابن ماجه 1873] ، [أحمد 328/6] ، [سعيد بن منصور 576]
الحكم: إسناده صحيح