بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2188 — قمیص، کنواں، دودھ، شہد، گھی، کھجور وغیرہ خواب میں دیکھنے کا بیان
کتب سنن دارمی کتاب خوابوں کے بیان میں قمیص، کنواں، دودھ، شہد، گھی، کھجور وغیرہ خواب میں دیکھنے کا بیان حدیث 2188
حدیث نمبر: 2188 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ"، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ: فَمَاذَا تَأَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"الدِّينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: میں ایک وقت سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں، اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں، کسی کا کرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچے تک پہنچا ہے، پھر میرے سامنے عمر بن الخطاب لائے گئے، ان کے بدن پر (جو) کرتا تھا (وہ اتنا لمبا کہ) وہ اسے گھسیٹ رہے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد دین ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الرويا/حدیث: 2188]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2197] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث دوسری سند سے متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 23] ، [مسلم 2390] ، [ترمذي 2285] ، [نسائي 5026] ، [أبويعلی 1290] ، [ابن حبان 6890]
وضاحت
(تشریح احادیث 2186 سے 2188)
اس حدیث سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوئی، ان دیکھے جانے والوں میں ان کا ایمان سب سے قوی اور پختہ و زیادہ تھا، اور یہ حقیقت ہے کہ ان کے زمانے میں جو ترقی اور شان و شوکت و عروج اسلام کو حاصل ہوا وہ ظاہر و معروف ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگ دین و ایمان کے اعتبار سے مختلف کم و بیش درجات و مراتب میں ہیں اور ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے۔
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس حدیث میں ایک گہری بلیغ تشبیہ ہے جو دین کو قمیص کے ساتھ دی گئی ہے، قمیص انسان کے جسم کو چھپانے والی ہے، اسی طرح دین اسے (گناہ اور) دوزخ سے چھپا لے گا، اس میں ایمان کی کمی بیشی پر بھی دلیل ہے جیسا کہ قمیص کے ساتھ دین کی تعبیر کا مفہوم ہے، جس طرح قمیص پہننے والے اس کے پہننے میں کم و بیش ہیں اسی طرح دین میں بھی لوگ کم و بیش درجات رکھتے ہیں، اس سے ایمان کی کمی و بیشی ثابت ہوئی۔
صحابہ کرام میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے افضل ہیں اس پر اجماع ہے۔
اس حدیث سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے بھی افضل ہیں کیونکہ خواب میں دیکھے جانے والے حضرات میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
(راز رحمہ اللہ)۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح ولكن الحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (2187) باب پر واپس اگلی حدیث (2189) →