مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، جَابَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ: "لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَلَدُ زِنْيَةٍ، وَلَا مَنَّانٌ، وَلَا عَاقٌّ، وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”زنا سے پیدا ہونے والا بچہ، احسان کر کے جتانے والا، ماں باپ کا نافرمان اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2138] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5688] ، [ابن حبان 3383] ، [موارد الظمآن 91382] ۔ لیکن پہلا جملہ اس روایت میں محل نظر ہے کیونکہ «لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى» کے تحت ولد الزنا کا کیا قصور ہے؟
الحكم: إسناده جيد