بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2127 — شرابی پر سختی کرنے کا بیان
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان شرابی پر سختی کرنے کا بیان حدیث 2127
حدیث نمبر: 2127 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا، حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ فَلَمْ يُسْقَهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس سے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم کر دیا جائے گا، (جنت کی) شراب اسے نہ پلائی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2135] »
اس روایت کی سند جید ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5575] ، [مسلم 2003] ، [نسائي 5687] ، [ابن ماجه 3373] ، [ابن حبان 5366]
وضاحت
(تشریح حدیث 2126)
یعنی جنّت میں جانے ہی نہ پائے گا تو وہاں کی شراب اسے کیسے نصیب ہوگی؟ شراب پینا گناہِ کبیرہ ہے، جو شخص شراب پئے اور توبہ نہ کرے تو جنّت کی شراب سے محروم ہوگا، توبہ کرنے سے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور گناہ کرنے والا پاک و صاف ہوجاتا ہے: «التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ.» (الحدیث)۔
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (2126) باب پر واپس اگلی حدیث (2128) →