بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2103 — ولیمہ کا بیان
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب ولیمہ کا بیان حدیث 2103
حدیث نمبر: 2103 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: "شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى إِلَيْهِ الْأَغْنِيَاءُ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مال داروں کو مدعو کیا جاتا ہے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2103]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2110] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5177] ، [مسلم 1432] ، [أبويعلی 5891] ، [ابن حبان 5304] ، [الحميدي 1204]
وضاحت
(تشریح حدیث 2102)
دعوتِ ولیمہ میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مالدار لوگوں کو مدعو کیا جا تا ہے اور بڑی شان و شوکت سے اس سنّت کو ادا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ سنّت ریا و نمود میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اپنے غریب محتاج مسلمان بھائیوں کو ولیمہ یا اور بھی کسی مناسبت میں نہیں بھولنا چاہیے۔
آج کے زمانے میں مسلمان ہی نہیں غیر مسلموں تک کو دعوتیں دی جاتی ہیں اور اپنے غریب عزیز اور رشتے دار مسلمان بھائیوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، ایسا ولیمہ اور ایسی دعوت یقیناً برکت سے خالی ہوگی۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2102) باب پر واپس اگلی حدیث (2104) →