بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2085 — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا سالن بہت پسند تھا
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا سالن بہت پسند تھا حدیث 2085
حدیث نمبر: 2085 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ: أَبُو سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَقَالَ:"هَلْ مِنْ غَدَاءٍ أَوْ مِنْ عَشَاءٍ؟"شَكَّ طَلْحَةُ. قَالَ: فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقٌ مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ:"مَا مِنْ أُدْمٍ؟"قَالُوا: لَا، إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، فَقَالَ:"هَاتُوهُ، فَنِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ". قَالَ جَابِرٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ جَابِرٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور فرمایا: دوپہر یا شام کے کھانے کو کچھ ہے؟ (یہ شک طلحہ کو ہوا) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کے لئے روٹی کے کچھ ٹکڑے پیش کئے گئے، فرمایا: کوئی سالن بھی ہے؟ عرض کیا: سرکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ فرمایا: لے آؤ (خل) سرکہ تو بڑا اچھا سالن ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سرکے کی تعریف کو) سنا اس وقت سے ہمیشہ سرکہ کو پسند کرتا ہوں۔ ابوسفیان (راوی الحدیث) نے کہا: میں نے جب سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سنا سرکہ کو ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2092] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2052] ، [أبوداؤد 3831] ، [ترمذي 1839] ، [نسائي 3805] ، [الطيالسي 1668] ، [أبويعلی 1982]
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2084) باب پر واپس اگلی حدیث (2086) →