بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2047 — کتوں کو مار ڈالنے کا بیان
کتب سنن دارمی شکار کے مسائل کتوں کو مار ڈالنے کا بیان حدیث 2047
حدیث نمبر: 2047 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ، لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا، وَلَكِنْ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ: الْبَهِيمُ: الْأَسْوَدُ كُلُّهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتا لیکن اب تم صرف بالکل کالے کتے کو مار ڈالو۔ سعید بن عامر نے کہا: «بهيم» وہ کتا ہے جو بالکل کالا ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصيد/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2051] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2845] ، [ترمذي 1486] ، [نسائي 4291] ، [ابن ماجه 3205] ، [ابن حبان 5650]
وضاحت
(تشریح احادیث 2045 سے 2047)
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: علماء کا اجماع ہے کہ کاٹنے والا کتا مار ڈالا جائے۔
امام الحرمین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر یہ منسوخ ہوگیا اور کالا سیاہ کتا اسی حکم پر باقی رہا۔
اس کے بعد یہ ٹھہرا کہ کس قسم کا کتا مارا جائے جب تک کہ وہ نقصان نہ پہنچا دے یہاں تک کہ کالا بھجنگ بھی، اور ثواب کم ہونے کا سبب یہ ہوگا کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جا سکتے جس کے پاس کتا ہوتا ہے، اور بعض نے کہا کہ اس وجہ سے کہ لوگوں کو ایذا ہوتی ہے اس کے بھونکنے اور حملہ کرنے سے، اور یہ جو فرمایا کہ امّت نہ ہوتی امّتوں میں سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کتا بھی ایک قسم کی نوع ہے، یعنی عالم کی قسم ہے اس کا فنا کرنا ممکن نہیں، اس لئے قتل کا حکم دینا بے کار ہے، کتنے ہی قتل کرو لیکن دنیا میں کتے ضرور باقی رہیں گے جب تک دنیا باقی ہے، آپ دیکھئے کہ سانپ اور بچھو، شیر اور بھیڑیئے لوگ صدہا ہزار سال سے جہاں پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں اور صدہا ہزارہا روپیہ انعام ان کے مارنے پر دیا جاتا ہے مگر کیا یہ انواع دنیا سے مٹ گئیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2046) باب پر واپس اگلی حدیث (2048) →