إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي لَبِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النُّهْبَةِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا فِي الْغَزْوِ إِذَا غَنِمُوا قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوٹ مار سے منع فرمایا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس سے مراد غزوات میں تقسیم سے پہلے کی مال غنیمت کی لوٹ مار ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2038] »
اس حدیث کی سند جید ہے اور حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3474] ، [ابن حبان 3267، 5170] ، [موارد الظمآن 1270، 1680] ، [أحمد 62/5] ، [ابن ابي شيبه 2369] ، [طحاوي مشكل الآثار 130/1] ۔ ابولبید کا نام لمازہ بن زبار ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2033)
لوٹ مار کسی وقت بھی جائز نہیں، خواہ وہ مال غنیمت کی ہو یا کسی اور کے مال کی، ارشادِ ربانی ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ...﴾ [النساء: 29] » ”اے مومنو! تم ایک دوسرے کے مال کو باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔
“ اس حدیث میں لوٹ مار اور رہزنی سے منع کیا گیا ہے اور یہ حرام ہے۔
الحكم: إسناده جيد