بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1991 — قربانی کے لئے جو جانور جائز نہیں اس کا بیان
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں قربانی کے لئے جو جانور جائز نہیں اس کا بیان حدیث 1991
حدیث نمبر: 1991 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاق ، شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ الصَّائِدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:"أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ، وَأَنْ لَا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا خَرْقَاءَ، وَلَا شَرْقَاءَ، فَالْمُقَابَلَةُ: مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا، وَالْمُدَابَرَةُ: مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ، وَالْخَرْقَاءُ: الْمَثْقُوبَةُ، وَالشَّرْقَاءُ: الْمَشْقُوقَةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم (قربانی) کے کان اور آنکھ کو خوب دیکھ لیں (یعنی ان میں کوئی نقص نہ ہو) اور مقابلہ، مدابرة، خرقاء اور شرقاء کی قربانی نہ کریں۔ مقابلہ وہ جانور جس کا کان کاٹ دیا گیا ہو، مدابرہ وہ ہے کہ کان کی جانب سے کچھ کٹا ہوا ہو، اور خرقاء وہ ہے جس کا کان چھدا ہوا ہو، اور شرقاء جس کا کان چرا ہوا ہو۔ (یہ سب کان کے نقص ہیں، ان کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات فقد قيل: إن أبا إسحاق لم يسمع شريح بن النعمان، [مكتبه الشامله نمبر: 1995] »
اس روایت کے تمام راوی ثقات ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [أبوداؤد 2804] ، [ترمذي 1498] ، [نسائي 4384] ، [ابن ماجه 3142]
وضاحت
(تشریح حدیث 1990)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ لنگڑی، کن کٹی اور ٹوٹے سینگ والی، مریل، بوڑھی کی قربانی درست نہیں، مذکورہ علل و خرابیاں قربانی کے جانور کو عیب دار بنا دیتی ہیں، اس لئے قربانی ایسے جانور کی کرنی چاہئے جس میں مذکور بالا عیوب نہ ہوں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
الحكم: رجاله ثقات فقد قيل: إن أبا إسحاق لم يسمع شريح بن النعمان
← پچھلی حدیث (1990) باب پر واپس اگلی حدیث (1992) →