بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1967 — تلبیہ کب پکارنا چاہیے
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں تلبیہ کب پکارنا چاہیے حدیث 1967
حدیث نمبر: 1967 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ، أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں مسجد کے پاس جب رکاب میں پیر رکھا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لبیک پکاری تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1967]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1971] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2865] ، [مسلم 1187/27] ، [ابن ماجه 2916] ، [أبويعلی 5473] ، [ابن حبان 3763] ، [الحميدي 666]
وضاحت
(تشریح حدیث 1966)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احرام باندھ کر کب لبیک پکاری اس بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اختلاف کی وجہ مروی ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لبیک پکاری، بعض صحابہ نے اس کو سنا اور یاد رکھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے تو لبیک پکاری، بعض صحابہ نے یہ سنا اور یاد رکھا، پھر جب میدان کی اونچائی پر پہنچے تو لبیک کہی، بعض صحابہ نے اس کو سنا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت لبیک پکاری۔
ابوداؤد میں ہے: در حقیقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دوگانہ ادا کی تب ہی لبیک پکارا۔
(وحیدی)۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1966) باب پر واپس اگلی حدیث (1968) →