بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1944 — مردوں کے لئے بال چھوٹے کرنے کے بجائے بال منڈانے کی فضیلت کا بیان
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں مردوں کے لئے بال چھوٹے کرنے کے بجائے بال منڈانے کی فضیلت کا بیان حدیث 1944
حدیث نمبر: 1944 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ قَالَ: "رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ". قِيلَ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ:"رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ". قَالَ فِي الرَّابِعَةِ:"وَالْمُقَصِّرِينَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی رحمت ہو سر منڈانے والوں پر، عرض کیا گیا: اور تقصیر کروانے والوں پر بھی؟ فرمایا: اللہ کی رحمت ہو سر منڈانے والوں پر، جب چوتھی مرتبہ بال کتروانے والوں کے لئے عرض کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور اللہ کی رحمت ہو بال کتروانے والوں پر بھی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1948] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1727] ، [مسلم 1301] ، [ترمذي 913] ، [ابن حبان 3880]
وضاحت
(تشریح حدیث 1943)
اس حدیث میں بار بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال منڈوانے والوں کے لئے دعا فرمائی۔
بخاری کی ایک روایت میں دو بار، ایک روایت میں تین بار اور یہاں مذکور بالا روایت میں بھی ہے کہ تین بار حلق کرنے والوں پر رحمت کی دعا اور چوتھی بار تقصیر کرانے والوں کے لئے دعا فرمائی، اس سے حج و عمرہ میں بال منڈانے والوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، قرآن پاک میں بھی ان کو مقدم رکھا گیا ہے: «﴿مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ .....﴾ [الفتح: 27] » لہٰذا تقصیر (بال کتروانا) جائز تو ہے لیکن افضل حلق ہے۔
واضح رہے کہ تقصیر میں پورے سر کے بال کتروانے چاہئیں، اِدھر اُدھر سے دو چار بال کتروانا درست نہیں ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1943) باب پر واپس اگلی حدیث (1945) →