بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1938 — رمی کے لئے کنکری کے سائز کا بیان
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں رمی کے لئے کنکری کے سائز کا بیان حدیث 1938
حدیث نمبر: 1938 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، خَالِدٌ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ "نَرْمِيَ الْجِمَارَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاذٍ لَهُ صُحْبَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالرحمٰن بن معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کو چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی جمار کا حکم فرماتے تھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا عبدالرحمٰن بن معاذ صحابی ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1942] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1957] ، [نسائي 2996] ، [مسند الحميدي 875] ، [معجم الصحابة لابن قانع رقم الترجمة 626]
وضاحت
(تشریح احادیث 1936 سے 1938)
ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ جمرات پر چھوٹی کنکریوں سے رمی کرنی چاہے، بڑی کنکری، پتھر، جوتے اور چپل وغیرہ پھینکنا خلافِ سنّت بلکہ غلو فی الدین ہے۔
[ابن ماجه 3029] میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کنکری مارتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! تم دین میں غلو کرنے سے بچنا، تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے۔
اس لئے دین کے ہر کام میں غلو کرنا منع ہے، اس سے بچنا چاہئے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1937) باب پر واپس اگلی حدیث (1939) →