بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1927 — حج کی تکمیل کس طرح ہوتی ہے؟
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حج کی تکمیل کس طرح ہوتی ہے؟ حدیث 1927
حدیث نمبر: 1927 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْوَلِيدِ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَامٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عروہ بن مضرس بن حارثۃ بن لام الطائی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ...... اور مذکورہ بالا حدیث ذکر کی۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1931] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ تخریج اوپر گزر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [الطيالسي 1075]
وضاحت
(تشریح احادیث 1925 سے 1927)
مذکورہ بالا احادیث سے ثابت ہوا کہ وقوفِ عرفہ اور مکوثِ مزدلفہ حج کے اہم رکن ہیں، اور یہاں ٹھہرنا ضروری ہے چاہے تھوڑے ہی وقفے ٹھہرے ہوں ورنہ حج نہ ہوگا، عرفات میں وقوف کا وقت 9 تاریخ کو زوال کے بعد سے غروبِ آفتاب تک ہے، اور مزدلفہ میں ٹھہرنے کا وقت رات اندھیرا پھیلنے کے بعد سے صبح تک کا ہے، اب اگر کوئی شخص دن میں عرفات میں نہ پہنچ سکا تو رات میں بھی تھوڑی دیر وقوف کر لیا اور پھر مزدلفہ میں حجاج سے آملا اور وہاں رات گزاری تو اس کا حج پورا ہوگیا، حجاجِ بيت الله کی خدمت کرنے والوں اور عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے روانگی کی اجازت ہے۔
«(كما مر آنفا).»
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1926) باب پر واپس اگلی حدیث (1928) →