بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1919 — مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین کا بیان
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں مزدلفہ میں جمع بین الصلاتین کا بیان حدیث 1919
حدیث نمبر: 1919 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، زُهَيْرٌ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، كُرَيْبٌ ، أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ أَنَّهُ: سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: أَخْبِرْنِي عَشِيَّةَ رَدِفْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ؟ قَالَ:"جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، ثُمَّ بَالَ وَمَا قَالَ: أَهْرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالسَّابِغِ جِدًّا، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ؟ قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ. قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ وَالنَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَصَلَّى، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ". قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟. قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
کریب نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ جس شام کو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سوار تھے تم نے کیا کیا؟ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم رات گزارنے کے لئے اس وادی میں پہنچے جہاں لوگ اپنے اونٹ بٹھاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر پیشاب کی حاجت رفع کی اور پانی ڈالنے کا حکم نہیں دیا، پھر وضو کا پانی منگایا اور ہلکا سا وضو کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز کا وقت ہو گیا؟ فرمایا: نماز تمہارے آگے ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی اور لوگ پڑاؤ ڈال چکے تھے اور کجاوے نہ کھول پائے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز اقامت کے ساتھ پڑھی، پھر لوگوں نے اپنے کجاوے کھولے۔ کریب نے کہا: یہ بتایئے پھر صبح آپ لوگوں نے کیا کیا؟ کہا: وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما تھے اور میں قریش کے ساتھ پیدل چلنے والوں میں سے تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1919]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1923] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 139] ، [مسلم 1280] ، [أبوداؤد 1925] ، [نسائي 3024] ، [أبويعلی 6722] ، [ابن حبان 1594]
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1918) باب پر واپس اگلی حدیث (1920) →