بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1854 — احرام کی حالت میں محرم کا جن جانوروں کو مار ڈالنا جائز ہے
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں احرام کی حالت میں محرم کا جن جانوروں کو مار ڈالنا جائز ہے حدیث 1854
حدیث نمبر: 1854 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قُتِلَ مِنْهُنَّ: الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ جانور ہیں جن کے قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں: کوا، چوہیا، چیل، بچھو، اور کالا کتا (کٹ کھنا کتا)۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1857] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے دیکھئے: [بخاري 1826] ، [مسلم 1199] ، [نسائي 2835] ، [أبويعلی 5428] ، [ابن حبان 3961] ، [الحميدي 631]
وضاحت
(تشریح حدیث 1853)
صحیح حدیث میں صراحت ہے کہ مذکورہ بالا پانچوں موذی جانوروں کو حل و حرم میں ہر جگہ قتل کیا جاسکتا ہے، یہ حدیث آگے آ رہی ہے اور نسائی میں ہے پانچ جانور ہیں جن کے مار ڈالنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں۔
← پچھلی حدیث (1853) باب پر واپس اگلی حدیث (1855) →