بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1763 — جس شخص کا روزے کا ارادہ ہو اور جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل جس شخص کا روزے کا ارادہ ہو اور جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے حدیث 1763
حدیث نمبر: 1763 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبَا بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، أُمَّ سَلَمَةَ ، وَعَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، وَعَائِشَةَ أَخْبَرتَاهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَصُومُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ ام سلمہ اور ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی جماع کے سبب جنابت کی حالت میں بھی صبح ہو جاتی، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزہ رکھ لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1766] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1926] ، [مسلم 1109] ، [أبويعلی 4427] ، [ابن حبان 3487]
وضاحت
(تشریح حدیث 1762)
پیغمبرِ اسلام محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایسا کرنے سے امّت کے لئے آسانی ہوگئی، کوئی آدمی صبحِ صادق سے پہلے جماع کر لے اور غسل نہ کر سکے تو وہ اذان کے بعد بھی غسلِ جنابت کر سکتا ہے اور اس کا روزہ صحیح ہوگا۔
بعض صحابہ کو اس امر میں تردد تھا لیکن جب امہات المومنین نے بتایا کہ سید الخلق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صبح ہونے کے بعد غسلِ جنابت بھی کیا اور روزہ بھی رکھا ہے تو ان کا تردد ختم ہوگیا اور انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا اور اس پر اتفاق ہو گیا کہ جنبی صبح ہو جانے کے بعد بھی نہائے تو اس کا روزہ خواہ فرض ہو یا نفل صحیح ہوگا اور اس پر کوئی قضا بھی نہیں ہے۔
لیکن صبحِ صادق کے بعد غسل میں تاخیر مناسب نہیں کیوں کہ نمازِ فجر میں تاخیر ہوگی۔
(والله اعلم)۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1762) باب پر واپس اگلی حدیث (1764) →