خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَصَامَ وَصَامَ النَّاسُ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيد، ثُمَّ أَفْطَرَ، فَأَفْطَرَ النَّاسُ، فَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس سال مکہ فتح ہوا (مدینہ سے) نکلے تو (سفر میں) روزہ رکھا اور سب لوگوں نے بھی روزہ رکھا، اور جب آپ کدید مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا اور سب لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین آپ کے نئے عمل کو فوراً اپنا لیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1746]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 1749] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1944] ، [مسلم 1113] ، [أبوداؤد 2404] ، [نسائي 2312] ، [ابن حبان 3555] ، [الحميدي 524]
وضاحت
(تشریح احادیث 1744 سے 1746)
یعنی صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جیسا کرتے دیکھتے فوراً اس پر عمل کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں روزہ رکھ کر نکلے تو صحابہ کرام نے بھی روزہ رکھا، حبیبِ کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ توڑا تو انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا، اور یہی حقیقی اطاعت و اتباع ہے۔
الحكم: إسناده قوي