بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1699 — صدقہ فطر کا بیان
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل صدقہ فطر کا بیان حدیث 1699
حدیث نمبر: 1699 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: "فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا، مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، مِنْ الْمُسْلِمِينَ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهِ؟ قَالَ: مَالِكٌ كَانَ يَقُولُ بِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے فطرے کی زکاة (صدقہ فطر) ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دی تھی، ہر مسلمان آزاد، غلام، مرد و عورت پر۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہی کہتے ہیں یعنی ایک صاع کے قائل ہیں؟ فرمایا: امام مالک رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 1702] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1504] ، [مسلم 984] ، [مسند ابي يعلی 5834] ، [ابن حبان 3300] و [الحميدي 718]
وضاحت
(تشریح حدیث 1698)
صاع ایک پیمانہ ہے جو یہاں سعودی عرب میں آج بھی رائج ہے، اس کا وزن شیخ محمد صالح العثیمن رحمۃ اللہ علیہ نے دو کلو چالیس گرام بتایا ہے، پرانے حساب میں تقریباً پونے تین سیر ہوتا ہے۔
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (1698) باب پر واپس اگلی حدیث (1700) →