بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ كِتَابًا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے خط لکھا ......... اور مذکور بالا کی طرح حدیث بیان کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1660]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1662] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1658 سے 1660)
ان احادیث سے بکریوں کی زکاة کا نصاب معلوم ہوا جو کہ چالیس ہے، اس سے کم میں زکاۃ نہیں، اور چار سو بکری سے زیادہ ہوں تو ہر ایک سو پر ایک بکری بڑھاتے جائیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف