بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1649 — عید کے دن صدقے پر ابھارنے کا بیان
کتب سنن دارمی عیدین کے مسائل عید کے دن صدقے پر ابھارنے کا بیان حدیث 1649
حدیث نمبر: 1649 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ، حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ، قَالَ:"تَصَدَّقْنَ"، فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ جَهَنَّمَ، فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"لِأَنَّكُنَّ تُفْشِينَ الشَّكَاةَ وَاللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ". فَجَعَلْنَ يَأْخُذْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ وَأَقْرَاطِهِنَّ وَخَوَاتِيمِهِنَّ يَطْرَحْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، يَتَصَدَّقْنَ بِهِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: میں عید کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ موجود تھا، آپ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ عورتوں کے پاس پہنچے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا، فرمایا: صدقہ و خیرات کرو، پھر کچھ جہنم کے بارے میں ذکر کیا (کہ تم میں سے بہت سی جہنم کا ایندھن ہوں گی) پس ایک عورت کم درجہ کی، کالے گالوں والی کھڑی ہوئی، عرض کیا: ایسا کیوں ہے اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: اس لئے کہ گلہ شکوہ، لعن طعن، اور خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہیں، یہ سن کر وہ اپنے زیور بالیاں اور انگوٹھیاں اتار اتار کر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں، وہ صدقہ دیتی تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب العيدين/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1651] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 961] ، [مسلم 885] ، [أبوداؤد 1141، 1159] ، [ترمذي 537] ، [نسائي وهذا لفظه 1586] ، [ابن ماجه 1291]
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1648) باب پر واپس اگلی حدیث (1650) →