أَبُو النُّعْمَانِ ، ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ ، عَاصِمٌ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ. قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا زَعَمَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ. قَالَ: كَذَبَ، ثُمَّ حَدَّثَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے ہے، میں نے کہا: فلاں کا تو خیال ہے کہ آپ نے کہا ہے قنوت رکوع کے بعد ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد قنوت پڑھی، یا یہ کہا کہ ایک مہینے تک آپ بنی سلیم کے ایک قبیلے پر بددعا کرتے رہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1637] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1001] ، [مسلم 677] ، [أبويعلی 2921] ، [ابن حبان 1973]
وضاحت
(تشریح حدیث 1634)
مقصد یہ کہ صرف ایک ماہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قنوتِ نازلہ رکوع کے بعد پڑھی ہے، تفصیل آگے آرہی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح