بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1618 — وتر کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل وتر کا بیان حدیث 1618
حدیث نمبر: 1618 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ ، عَلِيًّا
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ ضَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ:"إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ، فَلَا تَدَعُوهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وتر (فرض) نماز کی طرح واجب نہیں ہے، لیکن یہ سنت ہے اور اسے چھوڑو نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1618]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى علي، [مكتبه الشامله نمبر: 1620] »
یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف اور صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 1416] ، [ترمذي 453] ، [نسائي 1676] ، [أبويعلی 317]
وضاحت
(تشریح حدیث 1617)
ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ فرض نمازیں صرف پانچ ہیں، ان کے علاوہ سب سنن و نوافل ہیں، اور فرض نماز کی طرح وتر یا کوئی اور نماز واجب نہیں جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لیکن وتر کی نماز کو چھوڑنا نہیں چاہئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر و حضر میں کبھی وتر کو چھوڑا نہیں ہے، پس پیرویٔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ ہے کہ ہمیشہ وتر کی ادائیگی پر مداومت کی جائے، اگر اخیر رات میں ہو تو افضل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زیادہ تر آخر اللیل ہی میں پڑھا ہے، اور اگر عشاء کے بعد پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔
الحكم: إسناده صحيح إلى علي
← پچھلی حدیث (1617) باب پر واپس اگلی حدیث (1619) →