بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1604 — امام خطبہ کے لئے کہاں کھڑا ہو؟
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل امام خطبہ کے لئے کہاں کھڑا ہو؟ حدیث 1604
حدیث نمبر: 1604 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ، جَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ وَالْقَوْمُ يَجِيئُونَ فَلَا يَكَادُونَ أَنْ يَسْمَعُونَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَرْجِعُوا مِنْ عِنْدِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا، وَإِنَّ الْجَائِيَ يَجِيءُ فَلَا يَكَادُ يَسْمَعُ كَلَامَكَ. قَالَ:"فَمَا شِئْتُمْ"، فَأَرْسِلْ إِلَى غُلَامٍ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، نَجَّارٍ، وَإِلَى طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، فَجَعَلُوا لَهُ مِرْقَاتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَجْلِسُ عَلَيْهِ وَيَخْطُبُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ عِنْدَهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، فَسَكَنَتْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مدینہ میں لوگوں کی کثرت ہوئی تو لوگ آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ سن نہیں پاتے اور ایسے ہی واپس ہو جاتے، چنانچہ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ: اے اللہ کے نبی! لوگ بڑھ گئے ہیں، آنے والا آتا ہے اور آپ کا کلام سن نہیں پاتا، فرمایا: پھر تم جو چاہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک انصاری عورت کے لڑکے کو جو نجار (بڑھئی) تھا بلایا اور جنگل کے جھاؤ سے منبر بنانے کو کہا، چنانچہ اس نے دو یا تین سیڑھی بنائیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر بیٹھے اور خطبہ دینے لگے، جب انہوں نے ایسا کیا تو وہ لکڑی جس کے پاس کھڑے ہو کر آپ خطبہ دیتے تھے باریک آواز سے رونے لگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس گئے اور اپنا دست مبارک اس پر رکھا تو وہ چپ ہو گئی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الإسناد ضعيف والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1606] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث کی اصل موجود ہے جو بخاری شریف و دیگر کتبِ حدیث میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ دیکھئے: [بخاري 377، 448، 917] ، [مسلم 544] ، [ابن ماجه 1416] ، نیز دیکھئے حدیث رقم (41)
وضاحت
(تشریح احادیث 1601 سے 1604)
ان احادیثِ مبارکہ سے متعدد مسائل معلوم ہوئے، اوّل یہ کہ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا ثابت ہوا، منبر لکڑی کا اور تین سیڑھی والا ہو، جگہ تنگ ہو تو ایک طرف رکھ دیا جائے تاکہ صف بندی میں خلل نہ پڑے، علامہ وحیدی نے ابن ماجہ کی شرح میں (1415) لکھا ہے: اس حدیث میں ایک مشہور معجزہ مذکور ہے، یعنی تنے لکڑی کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فراق میں رونا ...... اس کے بعد لکھا ہے: ایک لکڑی کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس درجہ محبت، افسوں ہے ان لوگوں پر جو لکڑی سے بھی بدتر ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنّت کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں، علماء نے کہا ہے کہ لکڑی جب تک ہری رہتی ہے اس میں جان رہتی ہے اور وہ تسبیح کرتی ہے، احتمال ہے کہ یہ لکڑی (یا تنا) ہرا ہو، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ مردے کو زندہ کرنے اور اس کو قوتِ گویائی عطا کرنے پر بھی قادر ہے۔
الحكم: الإسناد ضعيف والحديث متفق عليه
← پچھلی حدیث (1603) باب پر واپس اگلی حدیث (1605) →