بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1556 — جمع بین الصلاتین کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل جمع بین الصلاتین کا بیان حدیث 1556
حدیث نمبر: 1556 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سفر میں جلدی چلنا ہوتا تو مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1558] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1091، 1106] ، [مسلم 703] ، [ترمذي 555] ، [نسائي 599]
وضاحت
(تشریح احادیث 1553 سے 1556)
جمع بین الصلاة دو نمازوں کو ملا کر ایک وقت میں پڑھنے کو کہتے ہیں، اور اس کی دو صورتیں ہیں: جمع تقدیم اور جمع تاخیر، دونوں ہی جائز ہیں۔
اکثر ائمہ کے نزدیک سفر میں اور حضر میں بھی خوف اور مطر (بارش) کی وجہ سے دو نمازیں ملاکر پڑھی جا سکتی ہیں، جیسا کہ احادیثِ صحیحہ سے اور اس باب کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنّت پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1555) باب پر واپس اگلی حدیث (1557) →