بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1468 — مسجد حرام میں مشرک کے داخل ہونے کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل مسجد حرام میں مشرک کے داخل ہونے کی ممانعت کا بیان حدیث 1468
حدیث نمبر: 1468 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، شُعْبَةُ ، الْمُغِيرَةِ ، الشَّعْبِيِّ ، الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْمُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَادَى بِأَرْبَعٍ حَتَّى صَهِلَ صَوْتُهُ:"أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَحُجَّنَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ، فَإِنَّ أَجَلَهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتْ الْأَرْبَعَةُ، فَإِنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو مکۃ المکرمہ کی طرف بھیجا تو میں ان کے ہمراہ تھا، انہوں نے چار چیزوں کا اعلان کیا یہاں تک کہ ان کی آواز بھرا گئی: سنو جنت میں صرف ایمان والا نفس ہی داخل ہو گا، اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے گا، نہ کوئی بیت اللہ کا ننگے ہو کر طواف کرے گا، اور جس کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عہد و پیمان ہو اس کی مدت چار مہینے کی ہے، یہ مدت گزرنے پر اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے بری الذمہ ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1470] »
اس روایت کی سند جید اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 369، 1622] ، [مسلم 1347] ، [أبوداؤد 1946] ، [نسائي 2957] ، [ابن حبان 3820] ، [أبويعلی 76، 104] ، [الحميدي 48]
وضاحت
(تشریح حدیث 1467)
سورۂ توبہ کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کافروں کی آگاہی کے لئے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا کہ معاہدہ کو ختم کرنے کا حق دستورِ عرب کے مطابق اسی کو ہے جس نے خود معاہدہ کیا یا کوئی اس کے خاص گھر والوں میں سے ہونا چاہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، قریشِ مکہ کی بدعہدی کی آخری مثال صلح حدیبیہ تھی، طے ہوا تھا کہ ایک طرف مسلمان اور ان کے حلیف ہوں گے اور دوسری طرف قریش اور ان کے حلیف، مسلمانوں کے ساتھ قبیلہ خزاعہ شریک ہوا اور قریش کے ساتھ بنوبکر، صلح کی بنیادی شرط یہ تھی کہ دس برس تک دونوں فریق صلح و امن سے رہیں گے، مگر ابھی دو سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ بنوبکر نے خزاعہ پر حملہ کر دیا اور قریش نے ان کی مدد کی، بنوخزاعہ نے کعبہ میں اللہ کے نام پر امان مانگی، پھر بھی وہ بے دریغ قتل کئے گئے، صرف چالیس آدمی بچ کر مدینہ پہنچے اور سارا حالِ زار پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنایا، اب معاہدے کی رو سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ضروری ہوگیا کہ قریش کو ان کی بد عہدی کی سزا دیں، چنانچہ دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوچ فرمایا اور بغیر کسی خون ریزی کے 8ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔
اس کے بعد 9ھ میں اس سورہ شریفہ کی دس ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا امیرِ حج بنا کر بھیجا، پھر بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مکہ شریف بھیجا تاکہ وہ سورۂ توبہ کی ان آیات کا کھلے عام اعلان کر دیں، اور مذکورہ بالا چاروں امور کا دوٹوک انداز میں اعلان کریں۔
(مولانا داؤد راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
الحكم: إسناده جيد
← پچھلی حدیث (1467) باب پر واپس اگلی حدیث (1469) →