مُحَمَّدُ بْنُ كُنَانَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُنَانَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،، قَالَ: "إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ وَأَرَادَ الرَّجُلُ الْخَلَاءَ، فَابْدَأْ بِالْخَلَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن ارقم نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو جائے اور آدمی کو پائخانہ کی ضرورت ہو تو پہلے بیت الخلاء جائے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1467] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 88] ، [ترمذي 142] ، [نسائي 851] ، [ابن حبان 2071] ، [موارد الظمآن 194] ، [الحميدي 896]
وضاحت
(تشریح حدیث 1464)
یعنی پہلے حاجت رفع کرے بعد میں نماز کو جائے، کیونکہ ایسی صورت میں نماز میں یکسوئی نہ رہے گی۔
صحیح حدیث ہے: «لَا صَلَاةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ، وَلَا هُوَ يُدَافِعُهُ الأَخْبَثَانِ» ”نماز نہیں پڑھنی چاہیئے جب کھانا سامنے آئے یا پائخانہ یا پیشاب کا تقاضہ ہو۔
“ [صحيح مسلم: 560] ۔
الحكم: إسناده صحيح