يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ رَبُّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، أَوْ يَقُولُ هَكَذَا"، وَبَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی (مناجات) کرتا ہے“ یا یہ کہا کہ ”اس کے اور قبلہ کے درمیان اس کا رب ہوتا ہے، پس جب تم میں سے کوئی شخص تھوکنے پر مجبور ہو تو اپنے بائیں طرف تھوکے یا اپنے قدم کے نیچے یا اس طرح کرے“ اور آپ نے اپنے کپڑے میں تھوکا اور کنارے پکڑ کر اسے مسل دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1434]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1436] »
اس حدیث کی سند صحیح اور حدیث دوسری سند سے متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 413، 416، 417] ، [مسلم 551] ، [أبويعلی 2884] ، [ابن حبان 2267] ، [الحميدي 1253] ، بخاری شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر کے ایک کنارے پر تھوکا اور اسے مسل دیا۔
الحكم: إسناده صحيح