مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، وَمَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَجُلٍ بِمَكَّةَ "فَسَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ"، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَّى عَلِقَهَا؟ وَقَالَ الْحَكَمُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومعمر نے کہا: مکہ میں میں نے ایک آدمی کے پیچھے نماز پڑھی اور اس نے دونوں طرف سلام پھیرا، میں نے اس کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: اسے یہ (سنت) کہاں سے مل گئی؟ اور حکم نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1384]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1386] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 581] ، [أبويعلی 5244]
وضاحت
(تشریح احادیث 1382 سے 1384)
حکم کے قول کے مطابق سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک طرف سلام پھیرنے کے قائل ہیں لیکن یہ درست نہیں۔
صحابہ کرام دونوں طرف سلام پھیرتے تھے اور یہی سنّت و واجب ہے۔
الحكم: إسناده صحيح