بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1358 — سجدے میں جاتے ہوئے پہلے ہاتھ رکھیں یا گھٹنے؟
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سجدے میں جاتے ہوئے پہلے ہاتھ رکھیں یا گھٹنے؟ حدیث 1358
حدیث نمبر: 1358 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُ، وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ". قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: كُلُّهُ طَيِّبٌ. وَقَالَ: أَهْلُ الْكُوفَةِ يَخْتَارُونَ الْأَوَّلَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو ایسے نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے، اور اسے چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں (یعنی سجدے میں جاتے ہوئے پہلے ہاتھ رکھے یا گھٹنے؟) تو انہوں نے کہا: دونوں طرح ٹھیک ہے، اور کہا کہ کوفہ والے پہلے گھٹنے رکھنا پسند کرتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1360] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 840] ، [ترمذي 269] ، [نسائي 1089] ، [أبويعلی 6540]
وضاحت
(تشریح احادیث 1356 سے 1358)
امام دارمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں دونوں طرح کی حدیث ذکر کر کے اس بات کی وضاحت کر دی کہ دونوں طرح صحیح ہے، سجدہ میں جاتے ہوئے چاہے پہلے ہاتھ رکھیں یا پہلے گھٹنے رکھیں، اس لئے اس بارے میں تشدد یا تعصب نہیں کرنا چاہیے، سند کے اعتبار سے یہ دوسری روایت پہلی روایت سے قوی ہے اور اہلِ حدیث کا مسلک وہی ہے جو امام دارمی رحمہ اللہ کا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1357) باب پر واپس اگلی حدیث (1359) →