بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1304 — منافقین پر کون سی نماز زیا دہ بھاری ہے
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل منافقین پر کون سی نماز زیا دہ بھاری ہے حدیث 1304
حدیث نمبر: 1304 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَصِيرٍ ، أَبِي ، أُبَيٍّ ، أُبَيٍّ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَصِيرٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:"أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: أَشَاهِدٌ فُلَانٌ، فَقَالُوا: لَا، لِنَفَرٍ مِنْ الْمُنَافِقِينَ لَمْ يَشْهَدُوا الصَّلَاةَ، فَقَالَ:"إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". [إلى قوله عليه الصلاة والسلام ولو حبوا: إسناده صحيح]
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أُبَيٍّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أُبَيٍّ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا: فلاں شخص حاضر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ عرض کیا: نہیں، آپ نے کئی منافقین کے نام لے کر پوچھا جو نماز میں حاضر نہیں تھے (پھر) فرمایا: یہ دونوں نمازیں (فجر اور عشاء) منافقین پر بہت زیادہ بھاری (ہوتی) ہیں، لیکن اگر وہ ان کی فضیلت (اجر و ثواب) کو جان لیں تو گھسٹتے ہوئے ان دونوں نمازوں میں چلے آئیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: عبداللہ بن ابی بصیر نے کہا: مجھ سے میرے والد نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی اور میں نے اپنے باپ سے اس کو سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله عليه الصلاة والسلام ولو حبوا: إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1305، 1306] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 551] ، [نسائي 846] ، [ابن ماجه 790] ، [ابن حبان 2056] ، [الموارد 429]
الحكم: إلى قوله عليه الصلاة والسلام ولو حبوا: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1303) باب پر واپس اگلی حدیث (1305) →