بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1294 — امام کو خفیف (ہلکی) نماز پڑھانے کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل امام کو خفیف (ہلکی) نماز پڑھانے کا بیان حدیث 1294
حدیث نمبر: 1294 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسًا
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خفیف ہلکی اور کامل نماز پڑھاتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1295] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، دیکھئے: [بخاري 706] ، [مسلم 469]
وضاحت
(تشریح احادیث 1292 سے 1294)
یہ دونوں حدیثِ قولی ہیں جن سے معلوم ہوا کہ امام کو اتنی لمبی نماز و قرأت نہیں کرنی چاہئے کہ نمازیوں کے لئے مشکل بن جائے، اور اس شخص نے ایسا کیا اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انتہائی شدید غصے کا اظہار کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بذاتِ خود بھی ہلکی نماز پڑھاتے تاکہ کسی بھی ضعیف و ناتواں اور صاحبِ حاجت کو نماز بوجھ محسوس نہ ہو، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تنہا اکیلے جب نماز پڑھتے تو بہت لمبی نماز ہوتی تھی، ہلکی نماز کا مقصد یہ نہیں کہ جلدی جلدی بلا تعدیل ارکان اور رکوع و سجود میں اطمینان کے بغیر نماز پڑھائی جائے، نماز ہلکی تو ہو لیکن سکون و اطمینان اور تعدیلِ ارکان کے ساتھ ہو ورنہ نماز نہیں ہوگی جیسا کہ حدیث مسئی الصلاۃ سے ثابت ہوتا ہے جو آگے آ رہی ہے۔
رقم الحدیث (1366)۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1293) باب پر واپس اگلی حدیث (1295) →