بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1283 — نماز میں ہر بار بیٹھے جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں ہر بار بیٹھے جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا بیان حدیث 1283
حدیث نمبر: 1283 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، أَبُو خَيْثَمَةَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ، وَقِيَامٍ، وَقُعُودٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہر بار اٹھتے جھکتے، کھڑے ہوتے اور بیٹھتے وقت «الله اكبر» کہتے دیکھا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1284] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 1145] ، [مسند أبى يعلی 5101، 5128]
وضاحت
(تشریح احادیث 1281 سے 1283)
ان احادیث سے نماز میں ہر ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہوتے وقت اللہ اکبر کہنا ثابت ہوا، صرف رکوع سے اٹھتے ہوئے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَه» (یعنی: الله تعالیٰ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی) کہنا چاہیے، اور فقہاء و علمائے کرام نے تکبیرِ تحریمہ کے بعد کی تمام تکبیرات اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنا، رکوع و سجود کی تسبیحات، سب کو نماز کے واجبات میں ذکر کیا ہے، اگر منفرد اور امام یہ کہنا بھول جائے تو اس کو جدۂ سہو کرنا ہوگا۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1282) باب پر واپس اگلی حدیث (1284) →