بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1266 — صلاۃ الوسطیٰ کون سی نماز ہے؟
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل صلاۃ الوسطیٰ کون سی نماز ہے؟ حدیث 1266
حدیث نمبر: 1266 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، مُحَمَّدٍ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا حَبَسُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتْ الشَّمْسُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا: الله تعالیٰ ان مشرکین کی قبریں اور ان کے گھر آگ سے بھر دے اس لئے کہ انہوں نے ہمیں «صلاة الوسطيٰ» (درمیان والی نماز) سے روکے رکھا، حتی کہ سورج غروب ہو گیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1268] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2931] ، [مسلم 627، و أصحاب السنن] و [مسند الموصلي 385] ، [ابن حبان 1745]
وضاحت
(تشریح حدیث 1265)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر کی نماز ہی صلاة الوسطیٰ ہے، نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نمازِ عصر قضا ہوجانے کا اتنا زیادہ غم تھا کہ مشرکین کے حق میں بددعا کر دی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلوک دشمنوں کے ساتھ بھی محبت و رحم دلی کا ہوتا تھا۔
صلاة الوسطیٰ کے معنی فضیلت والی نماز کے ہیں، اور اس سے مراد عصر کی نماز ہے، یہی صحیح قول ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1265) باب پر واپس اگلی حدیث (1267) →