بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1253 — صبح واضح ہو جانے پر نماز فجر پڑھنے کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل صبح واضح ہو جانے پر نماز فجر پڑھنے کا بیان حدیث 1253
حدیث نمبر: 1253 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانَ ، ابْنِ عَجْلَانَ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، نَحْوَهُ، أَوْ:"أَسْفِرُوا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن عجلان کے طرق سے اسی طرح مروی ہے۔ نیز اس میں «أسفروا» کے ساتھ مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1255] »
اس حدیث کی تخریج اوپر مذکور ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1250 سے 1253)
«أَسْفِرُوْا» یا «نَوِّرُوْا» دونوں کا معنی ایک ہی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ صبح واضح ہو جائے تو نمازِ فجر پڑھی جائے، لیکن اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ نمازِ فجر میں اتنی تاخیر کی جائے کہ سورج طلوع ہونے لگ جائے۔
ایک روایتِ صحیحہ میں ہے کہ «غلس» یعنی اندھیرے میں رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نمازِ فجر ادا کرتے اور جب عورتیں واپسی گھروں کو لوٹتی تھیں تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 60 سے سو آیات تک کی نماز میں قرأت کرتے تھے۔
جیسا کہ حدیث نمبر (1250) پرگذر چکا ہے۔
بعض حضرات صحابیٔ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا عدم رفع الیدین کا فعل تو بڑے شدّ و مدّ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی بہت سی احادیث کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
[بخاري شريف 527] میں اور اس کتاب کی حدیث نمبر (1259) میں ہے، سب سے محبوب عمل نماز اوّل وقت میں پڑھنا ہے، لیکن ہمارے یہ بھائی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مخالفت کرتے ہوئے اس وقت نمازِ فجر ادا کرتے ہیں جب سورج نکلنے میں چند منٹ باقی رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح عصر کی نماز اس وقت پڑھتے ہیں جب سورج غروب ہونے میں بہت تھوڑا وقت باقی رہ جاتا ہے۔
«(هدانا اللّٰه و إياهم)»
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (1252) باب پر واپس اگلی حدیث (1254) →