سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، يَزِيدَ بْنِ زَاذِي ، أَبِي زُرْعَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَاذِي، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَغْتَسِلُ، تَنْقُضُ شَعْرَهَا؟، فَقَالَتْ: "بَخٍ، وَإِنْ أَنْفَقَتْ فِيهِ أُوقِيَّةً؟ إِنَّمَا يَكْفِيهَا أَنْ تُفْرِغَ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جو عورت غسل کرتی ہے تو وہ اپنے بال کھول دے گی؟ جواب دیا: «بخ» (ہٹ تیری) کیا وہ ایک اوقیہ خرچ کرے گی؟ ارے اس کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنے سر پر تین بار پانی بہائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1189] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1048]
الحكم: إسناده صحيح