بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 5248 سنن ابو داؤد
إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل ، سُفْيَانُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ , وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً , فَلَيْسَ مِنَّا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی (سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/247، 432، 520) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4139)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/432)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 5249 سنن ابو داؤد
عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ ، إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ ، شَرِيكٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ ,عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الجھاد 48 (3195)، (تحفة الأشراف: 9357) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (3195)
شريك مدلس وعنعن
والحديث الآتي (الأصل : 5252) والسابق (الأصل : 5248) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5250 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ فِيمَا أَرَى إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ الْحَيَّاتِ مَخَافَةَ طَلَبِهِنَّ فَلَيْسَ مِنَّا , مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے (وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6221)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن مسلم الطحان شك في وصل الحديث
فالحديث معلول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5251 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، مُوسَى الطَّحَّانِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ ، الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , عَنْ مُوسَى الطَّحَّانِ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ , عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ , يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارَ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو (جھاڑو دے کر) صاف ستھرا کر دینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5133) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح إن كان ابن سابط سمع من العباس
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
مروان بن معاوية عنعن وفي سماع عبد الرحمٰن بن سابط من عباس نظر
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
الحكم: صحيح إن كان ابن سابط سمع من العباس
حدیث نمبر: 5252 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ" , قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا , فَأَبْصَرَهُ أَبُو لبابةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً , فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں (زہر کی شدت سے)، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/بدء الخلق 14 (3297)، صحیح مسلم/السلام 37 (2233)، (تحفة الأشراف: 12147)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 42 (3535)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (32)، مسند احمد (3/430، 452، 453) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس لئے کہ وہ جن و شیاطین بھی ہو سکتے ہیں، انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہو جانے یا اپنی شکل تبدیل کر لینے کی تین بار آگاہی دے دینی چاہئے اگر وہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تو دوسری روایات کی روشنی میں مار سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3297) صحيح مسلم (2233)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5253 سنن ابو داؤد
الْقَعْنَبِيُّ ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، أَبِي لُبابةَ
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي لُبابةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3298، 3312، 3313) صحيح مسلم (2233)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5254 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ يَعْنِي بَعْد مَا حَدَّثَهُ أَبُو لُبابةَ , حَيَّةً فِي دَارِهِ , فَأَمَرَ بِهَا , فَأُخْرِجَتْ يَعْنِي إِلَى الْبَقِيعِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے (باہر کرنے کا) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (5253)
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 5255 سنن ابو داؤد
ابْنُ السَّرْحِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَسُامَةُ ، نَافِعٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ , قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَسُامَةُ , عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ نَافِعٌ: ثُمَّ رَأَيْتُهَا بَعْدُ فِي بَيْتِهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ نے نافع سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے نافع نے کہا: پھر اس کے بعد میں نے اسے ان کے گھر میں دیکھا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5255]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12147) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2233)
الحكم: حسن الإسناد
حدیث نمبر: 5256 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى ، أَبِي ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَصَاحِبٌ لَهُ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ يَعُودَانِهِ , فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَنَا صَاحِبٌ لَنَا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِ , فَأَقْبَلْنَا نَحْنُ , فَجَلَسْنَا فِي الْمَسْجِدِ , فَجَاءَ , فَأَخْبَرَنَا أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْهَوَامَّ مِنَ الْجِنِّ , فَمَنْ رَأَى فِي بَيْتِهِ شَيْئًا , فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَإِنْ عَادَ فَلْيَقْتُلْهُ , فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن ابو یحییٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ اور ان کے ایک ساتھی دونوں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے پھر وہاں سے واپس ہوئے تو اپنے ایک اور ساتھی سے ملے، وہ بھی ان کے پاس جانا چاہتے تھے (وہ ان کے پاس چلے گئے) اور ہم آ کر مسجد میں بیٹھ گئے پھر وہ ہمارے پاس (مسجد) میں آ گئے اور ہمیں بتایا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض سانپ جن ہوتے ہیں جو اپنے گھر میں بعض زہریلے کیڑے (سانپ وغیرہ) دیکھے تو اسے تین مرتبہ تنبیہ کرے (کہ دیکھ تو پھر نظر نہ آ، ورنہ تنگی و پریشانی سے دو چار ہو گا، اس تنبیہ کے بعد بھی) پھر نظر آئے تو اسے قتل کر دے، کیونکہ وہ شیطان ہے (جیسے شیطان شرارت سے باز نہیں آتا، ایسے ہی یہ بھی سمجھانے کا اثر نہیں لیتا، ایسی صورت میں اسے مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4444) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کے رواة میں ایک راوی مجہول ہے، ہاں اگلی سند سے یہ واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
المخبر مجھول
والحديث الآتي (الأصل : 5257) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 5257 سنن ابو داؤد
يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ عَجْلَانَ ، صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، أَبِي السَّائِبِ ، أَبُو سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ , عَنْ أَبِي السَّائِبِ , قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , فَبَيْنمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُهُ , سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ , فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ , فَقُمْتُ , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا , قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أَقْتُلُهَا , فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ , فَقَالَ:" إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ , وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ , فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ , فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى باب الْبَيْتِ , فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ , فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي , فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ , فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ , ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ , قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ , فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا , فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ (کیوں کھڑے ہو گئے) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ (گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو (اب زندگی ملنے سے رہی) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 37 (2236)، سنن الترمذی/الصید 15 (1484)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (33)، (تحفة الأشراف: 4413)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/41) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2236)
الحكم: حسن صحيح