بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عورت کی کنیت رکھنا کیسا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: عورت کی کنیت رکھنا کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 4970 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّ صَوَاحِبِي لَهُنَّ كُنًى , قال: فَاكْتَنِي بابنِكِ عَبْدِ اللَّهِ" , يَعْنِي ابْن أخْتُهَا , قَالَ مُسَدَّدٌ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: فَكَانَتْ تُكَنَّى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ , قال أبو داود: وَهَكَذَا قَالَ قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ , وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَكَذَلِكَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , وَمَسْلَمَةُ بْنُ قَعْنَبٍ، عَنْ هِشَامٍ، كَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں (عبداللہ کے بجائے) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/107، 151، 186، 260) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح