بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: برے نام کو بدل دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 4952 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَمُسَدَّدٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ، وَقَالَ: أَنْتِ جَمِيلَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الآداب 3 (2139)، سنن الترمذی/الأدب 66 (2838)، (تحفة الأشراف: 8155، 7876)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأدب 32 (3733)، مسند احمد (2/18)، سنن الدارمی/الاستئذان 62 (2739) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عاصیہ عمر کی بیٹی تھی جس کے معنی گنہگار و نافرمان کے ہیں۔
۲؎:یعنی آج سے تیرا نام جمیلہ (خوبصورت اچھے اخلاق و کردار والی) ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2139)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4953 سنن ابو داؤد
عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ سَأَلَتْهُ مَا سَمَّيْتَ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: سَمَّيْتُهَا مُرَّةَ , فَقَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا الِاسْمِ , سُمِّيتُ بَرَّةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ، اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْكُمْ , فَقَالَ: مَا نُسَمِّيهَا؟ قَالَ: سَمُّوهَا زَيْنَبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر (میرے گھر والوں میں سے) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الأداب 3 (2142)، (تحفة الأشراف: 15884) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (821) وتابعه الوليد بن كثير عند مسلم (2142)
الحكم: حسن صحيح
حدیث نمبر: 4954 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمِّهِ أُسَامَةَ بْنِ أَخْدَرِيٍّ:" أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: أَصْرَ مُكَانَ فِي النَّفَرِ الَّذِينَ أَتَوْ الرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اسْمُكَ , قال: أَنَا أَصْرَمُ , قَالَ: بَلْ أَنْتَ زُرْعَةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم (بہت زیادہ کاٹنے والا) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ (کھیتی لگانے والے) ہو، (یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 83) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4775)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4955 سنن ابو داؤد
الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، شُرَيْحٍ ، هَانِئٍ
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ هَانِئٍ،" أَنَّهُ لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ سَمِعَهُمْ يَكْنُونَهُ بابي الْحَكَمِ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ، فَلِمَ تُكْنَىبابا الْحَكَمِ , فَقَالَ: إِنَّ قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَتَوْنِي فَحَكَمْتُ بَيْنَهُمْ، فَرَضِيَ كِلَا الْفَرِيقَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ؟ , قَالَ: لِي شُرَيْحٌ، وَمُسْلِمٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ , قَالَ: فَمَنْ أَكْبَرُهُمْ؟ قُلْتُ: شُرَيْحٌ , قَالَ: فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ" , قَالَ أبو داود: شُرَيْحٌ هَذَا: هُوَ الَّذِي كَسَرَ السِّلْسِلَةَ، وَهُوَ مِمَّنْ دَخَلَ تُسْتَرَ، قَالَ أبو داود: وَبَلَغَنِي أَنَّ شُرَيْحًا كَسَرَ باب تُسْتَرَ، وَذَلِك أَنْهُ دَخَلَ مِنْ سِرْبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: شریح آپ نے فرمایا: تو تم ابوشریح ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/آداب القضاة 7 (5389)، (تحفة الأشراف: 11725) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4766)
أخرجه النسائي (5389 وسنده حسن)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4956 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدُ الْرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ:" مَا اسْمُكَ , قَالَ: حَزْنٌ , قَالَ: أَنْتَ سَهْلٌ , قَالَ: لَا، السَّهْلُ يُوطَأُ وَيُمْتَهَنُ" , قَالَ سَعِيدٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُصِيبُنَا بَعْدَهُ حُزُونَةٌ، قَالَ أبو داود: وَغَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الْعَاصِ، وَعَزِيزٍ، وَعَتَلَةَ، وَشَيْطَانٍ، وَالْحَكَمِ، وَغُرَابٍ، وَحُباب، وَشِهَابٍ، فَسَمَّاهُ: هِشَامًا، وَسَمَّى حَرْبًا: سَلْمًا، وَسَمَّى الْمُضْطَجِعَ: الْمُنْبَعِثَ، وَأَرْضًا تُسَمَّى عَفِرَةَ سَمَّاهَا: خَضِرَةَ، وَشَعْبَ الضَّلَالَةِ سَمَّاهُ: شَعْبَ الْهُدَى، وَبَنُو الزِّنْيَةِ سَمَّاهُمْ: بَنِي الرِّشْدَةِ، وَسَمَّى بَنِي مُغْوِيَةَ: بَنِي رِشْدَةَ , قَالَ أبو داود: تَرَكْتُ أَسَانِيدَهَا لِلِاخْتِصَارِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہا: حزن ۱؎ آپ نے فرمایا: تم سہل ہو، انہوں نے کہا: نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں: تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی (اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عاص (گنہگار) عزیز (اللہ کا نام ہے)، عتلہ (سختی) شیطان، حکم (اللہ کی صفت ہے)، غراب (کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں)، حباب (شیطان کا نام) اور شہاب (شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب (جنگ) کے بدلے سلم (امن) رکھا، مضطجع (لیٹنے والا) کے بدلے منبعث (اٹھنے والا) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ (بنجر اور غیر آباد) تھا، اس کا خضرہ (سرسبز و شاداب) رکھا، شعب الضلالۃ (گمراہی کی گھاٹی) کا نام شعب الہدی (ہدایت کی گھاٹی) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأداب 107 (6190)، 108 (6193)، (تحفة الأشراف: 3400)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/433) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حزن کے معنی سخت اور دشوار گزار زمین کے ہیں اور سہل کے معنی: نرم اور عمدہ زمین کے ہیں حزن کی ضد۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6190)
مشكوة المصابيح (4776)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4957 سنن ابو داؤد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو عَقِيلٍ ، مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:" لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ , قُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ , فَقَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:الْأَجْدُعُ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مسروق کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: اجدع تو شیطان ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3731)، (تحفة الأشراف: 10641)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/31) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3731)
مجالد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4958 سنن ابو داؤد
النُّفَيْلِيُّ ، زُهَيْرٌ ، مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَكَ يَسَارًا، وَلَا رَبَاحًا، وَلَا نَجِيحًا، وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّكَ تَقُولُ: أَثَمَّ هُوَ؟، فَيَقُولُ: لَا، إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدَنَّ عَلَيَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے: کیا وہاں ہے وہ؟ تو جواب دینے والا کہے گا: نہیں (تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے) (سمرہ نے کہا) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4958]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/الأداب 2 (2136)، سنن الترمذی/الأدب 65 (2836)، سنن ابن ماجہ/الأدب 31 (3730)، (تحفة الأشراف: 4612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/7، 10، 12، 21)، سنن الدارمی/الاستئذان 61 (2738) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2137)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4959 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، الْمُعْتَمِرُ ، الرُّكَيْنَ ، أَبِيهِ ، سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الرُّكَيْنَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ: أَفْلَحَ، وَيَسَارًا، وَنَافِعًا، وَرَبَاحًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم افلح، یسار، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں۔   [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4959]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4612) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (2136)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4960 سنن ابو داؤد
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْهَى أُمَّتِي أَنْ يُسَمُّوا نَافِعًا، وَأَفْلَحَ، وَبَرَكَةَ" , قَالَ الْأَعْمَشُ: وَلَا أَدْرِي ذَكَرَ نَافِعًا أَمْ لَا، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَقُولُ: إِذَا جَاءَ أَثَمَّ بَرَكَةُ؟ , فَيَقُولُونَ: لَا , قَالَ أبو داود: رَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ بَرَكَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، (اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں (سفیان) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، (تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2330)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الأعمش صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (833) ورواه مسلم (2138)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4961 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَخْنَعُ: اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الْأَمْلَاكِ" , قَالَ أبو داود: رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: أَخْنَى اسْمٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، (جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الأدب 114 (6206)، صحیح مسلم/الأداب 4 (2143)، سنن الترمذی/الأدب 65 (2837)، (تحفة الأشراف: 13672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6206) صحيح مسلم (2143)
الحكم: صحيح