أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا" , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُئِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/8، 38) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4811)
وانظر الحديث الآتي (4925)
الحكم: صحيح