بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گانے بجانے کی کراہت کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: گانے بجانے کی کراہت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 4924 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغُدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ مِزْمَارًا، قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ هَذَا" , قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْلُؤْلُئِيُّ: سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7672)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/8، 38) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4811)
وانظر الحديث الآتي (4925)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4925 سنن ابو داؤد
مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي ، مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُطْعِمُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ ابْنِ عُمَرَ إِذْ مَرَّ بِرَاعٍ يَزْمُرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قال أَبُو دَاوُد: أُدْخِلَ بَيْنَ مُطْعِمٍ وَنَافِعٍ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4925]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8448) (حسن صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 4926 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ، أَبُو الْمَلِيحِ ، مَيْمُونٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ زَامِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قال أَبُو دَاوُد وَهَذَا أَنْكَرُهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4926]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8510) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: صاحب عون المعبود لکھتے ہیں: «ولا یعلم وجہ النکارۃ بل إسنادہ قوی ولیس بمخالف لروایۃ الثقات» یعنی ابوداود نے اسے «أنکر الروایۃ»  کیوں کہا اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی بلکہ سنداً یہ قوی روایت ہے اور ثقات کی روایت کے بھی مخالف نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
ميمون ھو ابن مھران وأبو المليح ھو الحسن بن عمر الرقّي
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 4927 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، شَيْخٍ ، أَبُو وَائِلٍ ، عَبْدَ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ شَيْخٍ شَهِدَ أَبَا وَائِلٍ فِي وَلِيمَةٍ فَجَعَلُوا يَلْعَبُونَ يَتَلَعَّبُونَ يُغَنُّونَ، فَحَلَّ أَبُو وَائِلٍ حَبْوَتَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابووائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4927]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9315) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: بیٹھنے کی ایک مخصوص ہیئت کا نام ہے جس میں آدمی سرین کے بل پاؤں کھڑا کر کے بیٹھتا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے گھٹنے باندھ لیتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ سلام بن مسكين : مجهول،لم أجد من وثقه
والحديث ضعفه البيهقي في شعب الإيمان (5099)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 172
الحكم: ضعيف