مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، مُجَاهِدٍ ، قَائِدِ السَّائِبِ ، السَّائِبِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَائِدِ السَّائِبِ، عَنْ السَّائِبِ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ وَيَذْكُرُونِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ يَعْنِي بِهِ , قُلْتُ: صَدَقْتَ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كُنْتَ شَرِيكِي فَنِعْمَ الشَّرِيكُ كُنْتَ لَا تُدَارِي وَلَا تُمَارِي.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں“ میں نے عرض کیا: سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں، آپ میرے شریک تھے، تو آپ ایک بہترین شریک تھے، نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/التجارات 63 (2287)، (تحفة الأشراف: 3791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/425) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2287)
مجاهد سمعه من قائد السائب،والقائد لم أجدله ترجمة و في سند الحديث اضطراب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
الحكم: صحيح