بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایک شخص دوسرے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے تو یہ کیسا ہے؟
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: ایک شخص دوسرے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھے تو یہ کیسا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 4827 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، أَبُو بَكْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى آلِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ:" جَاءَنَا أَبُو بَكْرَةَ فِي شَهَادَةٍ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَأَبَى أَنْ يَجْلِسَ فِيهِ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَا، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْسَحَ الرَّجُلُ يَدَهُ بِثَوْبِ مَنْ لَمْ يَكْسُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ایک گواہی کے سلسلے میں ہمارے ہاں آئے، تو ان کے لیے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کیا، اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ کسی ایسے شخص کے کپڑے سے پونچھے جسے اس نے کپڑا نہ پہنایا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4827]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11675)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/44، 48) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو عبد اللّٰه مولي آل أبي بردة : مجهول (تق: 8215)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 4828 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ ، أَبَا الْخَصِيبِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَصِيبِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَذَهَبَ لِيَجْلِسَ فِيهِ، فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو الْخَصِيبِ اسْمُهُ: زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک شخص اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو وہ وہاں بیٹھنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے روک دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6725)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 20 (911)، الاستئذان 31 (6269)، صحیح مسلم/السلام 11 (2177)، سنن الترمذی/الأدب 9 (2750)، مسند احمد (2/149)، سنن الدارمی/الاستئذان 24 (2695) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الخصيب وثقه ابن حبان وحده وحديث مسلم (29/ 2177) والبخاري (6269) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168
الحكم: حسن