بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 4811 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا (بھی) شکر ادا نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن الترمذی/البر والصلة 35 (1954)، (تحفة الأشراف: 14368)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/295، 461، 303، 5/211، 212) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: جس کی عادت و طبیعت میں بندوں کی ناشکری ہو وہ اللہ کے احسانات کی بھی ناشکری کرتا ہے، یا یہ مطلب ہے کہ اللہ ایسے بندوں کا شکر قبول نہیں فرماتا جو لوگوں کے احسانات کا شکریہ ادا نہ کرتے ہوں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (1954 وسنده صحيح)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4812 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَتْ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، قَالَ: لَا، مَا دَعَوْتُمُ اللَّهَ لَهُمْ وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا: اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا: نہیں (ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اجر سے محروم رہو) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی ''في الیوم واللیلة'' (181)، (تحفة الأشراف: 340)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/200، 201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4813 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، بِشْرٌ ، عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، رَجُلٌ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، أخبرنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ" , قال أَبُو دَاوُد: رَوَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ , عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ شُرَحْبِيلُ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2277) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد الأنصاري،شيخ عمارة : ’’ وثقه ابن حبان وضعفه جمهور الأئمة ‘‘ (مجمع الزوائد للهيثمي 115/4) ضعيف (تقدم : 2866)
وللحديث لون آخر عند الترمذي (2034) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 4814 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2329) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: حدیث میں «أبلى بلائً» جو  «من أعطى عطائًا» کے معنیٰ میں ہے «بلاء» کا لفظ خیر اور شر دونوں معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
الحكم: صحيح